Monday, December 23, 2013
Sunday, December 22, 2013
Saturday, November 30, 2013
Thursday, November 28, 2013
Tuesday, November 26, 2013
Monday, November 25, 2013
نعت : عشقِ نبی صل اللہ علیہ وسلم
عشقِ نبیﷺ
عشقِ نبی میں مٹ جائوں میں
خواہش ہے بس اتنی سی
دیوانہ ان کا کہلائوں میں
خواہش ہے بس اتنی سی
چھوڑ کے سب رسمیں وعدے
چھوڑ کے سب در دنیا کے
اُن کی گلی کا ہوجائوں میں
خواہش ہے بس اتنی سی
بسی رہتی ہے جن میں ہر دم
تیرے عشق کی آقا دُھن
دھڑکنیں وہ سن پائوں میں
خواہش ہے بس اتنی سی
تیرے شہر کی گلیوں میں
تیرے در کی چوکھٹ پر
خاک بن کے بکھر جائوں میں
خواہش ہے بس اتنی سی
جتنے بھی تھے نبیﷺکے دیوانے
بن کےوہ افلاک کے تارے
اُن سا گوہر بن پائوں میں
خواہش ہے بس اتنی سی
27/01/2008
(جمال الملک شہزادہ ڈاکٹر گوہر نظیر گوہر)
Labels:
نعت، عشق نبی
Friday, November 22, 2013
حقیقی شیخ (رہبر) کی پہچان
حقیقی شیخ (رہبر) کی پہچان
سب سے ضروری امر یہ ہے کہ ایک سادہ اور ناتجربہ کار انسان سینکڑوں غلط اور جھوٹے پیروں میں سے حقیقی رہبرکو کس طرح پہچان سکتا ہے۔ اوّل تو یہ کہ اگر واقعی طالبِ حق ہے تو اس کی صداقتِ خواہش اور تمّنا خود ہی کافی ہے بلکل اسی طرح جس طرح کوئی شخص پیاسا ہو تو اس کے لئے پانی کی شرائط کی بحث کرنا غیر ضروری ہے۔
پھر بھی قرآن مجید نے اس مشکل کو آسان کردیا ہے کہ نائبِ رسول اور ولی اللہ وہ شخص ہے جو ان تین امور پر کار بند ہو۔
۱۔
ومَایَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی
(اور وہ کوئی بات اپنی خواہش پر نہیں کرتا (النجم۳
۲۔
عَزِیْزُعَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصُ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رُءُ وْفُ رَّحِیْمُ
اس پرتمھارا مشقت میں پڑنا گراں گزرتاہے تمھاری بھلائی کا نہایت چاہنے والا
(اور ایمان والوں پر نہایت شفیق مہربان ہے(التوبہ۱۲۸
۳۔
تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللہِ
(اپنے اخلاق کو اخلاقِ الٰہی سے موصوف کرو (الحدیث
حضور سرورِ کائینات صل اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا ولی وہ ہے جس کے پاس بیٹھنے سے خدا یاد آئے۔ یعنی حُبِ دنیا کی جگہ دل میں خدا کی محبت داخل ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ خدا سے ملانے والا رہبر مل جائے اور اگر یہ مل جائے تو دنیاومافیہا کی دولتیں اس کے آگے ہیچ ہیں۔ اس رہبر کا ملنا عین کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا ہے
مَنْ یَّھْدِاللہُ فَھُوَالْمُھْتَدِج وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَلَہُ وَلِیًّا مُّرْشِدًا
جسے اللہ ہداہت دے وہی ہدایت یافتہ ہے ، اور جسے وہ گمراہ ٹھہرادے اس کے لئے کوئی ولی مرشد نہیں
شیخ کی اتباع
شیخ کی اتباع
کامل شیخ نہ تو خلافِ شریعت کوئی عمل کرتا ہے نہ حکم دیتا ہے۔
لہٰذا شیخ کی اتباع میں ہی اللہ عزوعجل اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے۔
جس طرح نماز میں امام کی تکبیر پر قیام ، رکوع و سجود کرتے ہیں اور اسی کی پیروی و اتباع کی جاتی ہے مگر حقیقت میں مقصود تو اطاعت و عبادت تواللہ کی ہے نہ کہ امام کی۔
لہٰذا کامل شیخ کی اتباع نہایت ادب سے جاری رکھنی چاہیے۔ ادب ایک اہم ترین اکائی ہے جس کے بغیر سالک کو کوئی مرتبہ نہیں مل سکتا۔
سالک کو چاہیے کہ وہ اپنے شیخ کے سامنے نہ تو اورچی آواز میں بات کرے، نہ ذیادہ ہنسے، اور نہ ذیادہ سوالات کرے خاموشی سے جتنا حکم ملے اس پر عمل کرے۔
Labels:
شیخ کی اتباع
Wednesday, November 20, 2013
ضرورتِ شیخ
ضرورتِ شیخ
مادی علوم میں سے کوئی علم، دستکاری پیشوں میں سے کوئی پیشہ، فنون لطیفہ میں سے کوئی فن یہاں تک کہ کھیلوں میں سے کوئی کھیل بھی ایسا نہیں ہے جس کو سیکھنے کے لئے استاد کی ضرورت نہ پڑتی ہو۔ تو روحانیت تو ایک ایسا علم ہے جو کہ تمام علوم سے زیادہ لطیف اور تزکیہ نفس کا فن تمام فنون سے دشوار ترین ہے۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ اس علم کو حاصل کرنے کے لئے کسی راہبر، کسی استاد یا علم کو جاننے والے اور سمجھنے والے کی ضرورت نہ ہو۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قرآنِ مجید کی موجودگی میں کسی مرشد ، شیخ یا راہبر کی ضرورت نہیں۔ یہاں دو باتیں غور طلب ہیں اوّل قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے علم کی ضرورت ہے کم سے کم ترضرورت عربی زبان کے رموزواوقاف اور صرف و نحو، دوئم قرآنِ مجید کی اصل روح کو سمجھنے کے لئے ایک ایسے روشن اور صاف سینے کی ضرورت ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے انوار سے اور نسبتِ رسولی صل اللہ علیہ وسلم سے روشن اور منور ہو۔ ورنہ مطالب کچھ کے کچھ نکال کر اپنا اور دیگر لوگوں کا بیڑا غرق کردیں۔ نبیٔ پاک صل اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی صحابہؓ آپ صل اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید کی تشریح اور تفسیر سیکھتے تھے۔حلانکہ ان میں سے اکثر عرب تھے۔اور عربی زبان کے خوب ماہر تھے۔
اسی طرح ڈاکٹری یا انجینیئرنگ وغیرہ کے علوم کی کتابوں کی لائیبریریاں بھری ہوئی ہیں مگر کوئی ان کاعلم خود سے پڑھ کر ڈاکٹر یا انجینیئر نہیں بن سکتا۔ اگر کوئی محض کتابوں کو پڑھ کے ڈاکٹری شروع کردے تو اس کو ڈاکٹر نہیں کہیں کے بلکہ نیم حکیم کہیں گے جوصحیح مشورہ تو کیا دے گا الٹا نقصان کا باعث ہوگا۔اسی طرح کئی کتابیں کیمیا کی مل جاتی ہیں جن کو پڑھ کر کوئی کیمیا گر نہیں بن سکتا اس کے لئے اگر اصل کیمیا گر مل جائے تونہ صرف کیمیا بنادے بلکہ سیکھنے والے کو بھی کیمیا گر کردے۔
قرآن ِ کریم میں اللہ تبارک تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے
وَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ج
اور اسی کی راہ چلو جو میری طرف رجوع لایا
۔’’سَبِیْل‘‘ سے مراد معمولاتِ ’’مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ‘‘ ہے۔ اور ان سے مراد عبادات ہیں۔ ’’اتَّبِعْ‘‘امر کا صیغہ ہے۔ ’’مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ‘‘ سے مرادمشائیخ ہیں جو قرب الہٰی حاصل کئے ہوے ہوں۔ اس بنا پر شیخ سے بیعت کرنا ضروری ہے۔ اُس شیخ سے جو شریعت کے احکام، موضوعِ طریقت اور اقسامِ بیعت سے واقف ہو۔
مگر وہ شیخ جو ان امورسے نا واقف ہوں ان سے بیعت کرنا حرام ہے۔ قائدہ کلیہ ہے کہ شرط ہمیشہ مشروط سے مقدم ہوتی ہے مثلاً نماز پڑھنے کے لئے وضو شرط ہے اگر وضو ہی نہ ہو تو نماز کیسی۔ اگر عجمی شخص قرآن کا علم حاصل کرنا چاہے تواسے چاہیے کہ کسی صحیح العقیدہ نسبتِ رسولی صل اللہ علیہ وسلم سے روشن سینے والے مترجم کا لکھا ہوا ترجمہ پڑھے ورنہ اصل مقصد سے دورہوجائے گا بلکہ منزل پر کبھی نہ پہنچے گا۔
لہٰذاروحانیت کے علوم کو سیکھنے، تزکیہ نفس کے فن میں مہارت اور خُدا کا قرب حاصل کرنے کے لیے کسی خُدا رسیدہ نسبتِ رسولی صل اللہ علیہ وسلم سے روشن سینے والے صاحبِ اجازت شیخ سے بیعت کرنا ضروری بلکہ کامیابی کی شرط ہے۔
Labels:
Need of Teacher,
ضرورتِ شیخ
Tuesday, November 19, 2013
بیعت کی برکت
بیعت کی برکت
اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی کسی دنیاوی غرض کے خاطرکسی اللہ کے ولی کے پاس جاتا ہے۔بلکہ اگر اس تعداد کو 99٪ کہہ دیا جاے تو کوئ مبالغہ نہ ہوگا۔کوئ اپنےقرض سے، مرض سے، پریشانی سے، تکالیف سے نجات کے لیے، کوئ اولاد کو حاصل کرنے کے لیے، وغیرہ وغیرہ کسی اللہ کے ولی کے پاس دعاکروانے جاتے ہیں۔
اللہ کے والی کی دعاسے اس کا دنیا کا مسئلہ تو حل ہو ہی جاتا ہے مگر اللہ والے کی توجہ حقیقت میں کسی اور طرف ہوتی ہے۔ اور وہ اپنی نظر کے فیضان سے اس دنیا دار کو آہستہ آہستہ راہِ سلوک کی طرف لگا دیتا ہے کہ جسکا مقصد صرف اور صرف اللہ کا قرب اور نسبت رسولی ہوتا ہے۔ اور وہ پھر آگے چل کر ولی، غوث ،قطب اور ابدال بن جاتے ہیں۔اور بیشمار ایسی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔
صرف ایک فیصد لوگ بلکہ اس سے بھی کچھ کم لوگ اپنی لگن اور اپنی طلب سے کسی اللہ والے کو تلاش کرتے ہیں جو راہ سلوک کی طرف گامزن کرسکے۔ایسے لوگوں کے لیے بیعت فرض ہے کہ جس کی برکت سے وہ بہت جلد اپنی منزل مقصود کی طرف رواں ہوجاتے ہیں۔
بیعت کی اقسام
بیعت کی اقسام
١۔ بیعتِ لغو ٢۔ بیعت ضلالت ٣ ۔ بیعتِ سُنت ٤۔ بیعتِ فرض
بیعتِ لغو(جھوٹی)۔
جب بیعت کرنے والا اور بیعت ہونے والا دونوں ہی سلوک سے نابلد ہوں ، دونوں یہ نہ جانتے ہوں کیوں بیعت کررہا ہو یا کیوں بیعت ہو رہا ہوں تو ایسی بیعت کو ’’بیعتِ لغو‘‘ کہتے ہیں۔ دونوں کو توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔
(بیعتِ ضلالت (گمراہی
جب کوئی شخص پیر کی سی وضع قطع بناکر کسی بستی میں چلا جائے اور نہ اسکو سلوک کا علم ہو نہ اُس کو اس کی اجازت ہو،نہ مسائل علم ہو،اپنے سے باتیں گھڑ کر لوگوں کو بتائے، لوگوں کو گمراہ کرکے لوگو سے پیسے بٹورے ۔ تو ایسی بیعت کو ’’بیعتِ ضلالت‘‘ کہتے ہیں
یہ پہلی دونوں قِسم کی بیعت گناہ ہیں اور ان سے بچنا ضروری ہے
بیعتِ سُنت
اگر کوئی شخص طبعاً نیک ہو اور وہ اپنی غلطیوں کی ، اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کے لئے کسی بندئہ خدا کے پاس چلا جائے۔اور اس مقصد کے لئے بیعت کرلے تو اس بیعت کو ’’بیعتِ سُنت‘‘ کہتے ہیں۔اور یہ باعثِ برکت ہے۔ جیسا کہ سورۃ الممتحنۃ کی آیت نمبر ١٢میں عورتوں کے بیعت کرنے کا ذکر ہے
بیعتِ فرض
خالصتاً اللہ کے رضا کے لئے اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اللہ کاخاص بندہ بننے کے لئے۔ اللہ تعالیٰ اور نبیٔ پاک صل اللہ علیہ وسلم کے عشق سے سرشار ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ کسی صاحبِ اجازت اور حقیقتاً اللہ کے ولی کے پاس جاکر اسکی بیعت کی جائے۔اس کو ’’بیعتِ فرض‘‘ کہتے ہیں۔
Monday, November 18, 2013
قرآنِ وسنت کی روشنی میں بیعت
قرآنِ وسنت کی روشنی میں بیعت
قرآن شریف میں بیعت ہونا اور بیعت کرنا ثابت ہے
اِنَّ اَلَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَایُبَایِعُوْنَ اللہ ط یَدُاللہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِم ج فَمَنْ نَّکَثَ فَاِنَّمَایَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہ ج وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰھَدَ عَلَیْہُ اللہ فَسَیُوْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا سورۃالفتح آیت10
بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ،ان کے ہاتھوں پر(آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اللہ کا ہاتھ ہے پھر جس نے بیعت کو توڑا تواس کے توڑنے کا وبال اس کی اپنی جان پر ہوگا اور جس نے بات کو پورا کیا جس پر اس نے اللہ سے عہد کیا تھا، تو عنقریب اسے بہت بڑا اجر عطا کیا جائے گا۔
سورۃ الفتح آیت نمبر۱۰ چونکہ اپنے مضمون کے اعتبار سے اور بیعت کے متعلق ہے۔ اور اسکا شانِ نزول بھی سب کو معلوم ہے کہ جب آپ صل اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کومشرکین مکہ سے معاملات طے کرنے کی غرض سے بھیجا تو یہ افواہ اُڑ گئی کہ حضرت عثمانؓ کو شہید کردیا گیا ہے۔ اس موقع پر نبیٔ پاک صل اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہؓ کو بلوایا اور ان سے بیعت لی کہ ہم عثمانؓ کا بدلہ لیں گے۔
یہاں جو چیز سمجھنے والی ہے وہ یہ کہ کسی اور کو معلوم ہوتا یا نہ ہوتا اللہ ربّ العزت کو تو معلوم تھا کہ حضرت عثمانؓ زندہ ہیں ان کو شھید نہیں کیا گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ کو آپ صل اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کابیعت کرنے کا عمل اتنا پسند آیا کہ اللہ نے خود فرمایا کہ جو آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ یہاں ایک نقطہ جو بہت اہم ہے وہ یہ کہ اچھے مقصد کے لئے بیعت کرنا اور ہونا مالک کو اتنا پسند آیا کہ مالک نے اُسے قرآن کی آیت بنا دیا۔
لَقَدْ رَضِیَ اللہ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْیُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الْشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ فَاَنْزَلَ الْسَّکِیْنَۃَ عَلَیْھِمْ وَاَثَابَھُمْ فَتْحًاقَرِیْبًا سورۃالفتح آیت نمبر۱۸
بیشک اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کررہے تھے، سو جو (جذبۂ صِدق ووفا) ان کے دلوں میں تھا اللہ نے معلوم کرلیا تو اللہ نے ان(کے دلوں) پر خاص تسکین نازل فرمائی اور انہیں ایک بہت ہی قریب فتح کا انعام عطا کیا
یٰٓاَیُّھَاالنَّبِیُّ اِذَاجَآئَکَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّایُشْرِکْنَ بِاللہِ شَیْئًاوَّلَایَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَایَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَایَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہ‘ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَ لَایَعْصِیْنَکَ فِی مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْھُنَّ وَاسْتَغْفِرْلَھُنَّ اللہ طاِنَّ اللہَ غَفُوْرُ رَّحِیْمُ ٗ سورۃممتحنہ آیت نمبر۱۲
اے نبی(صل اللہ علیہ وسلم) جب تمھارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ خدا کے ساتھ نہ تو شریک کریں گی نہ چوری کریںگی، نہ بدکاری کریں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان لائیں گی اور نہ نیک کاموں میں تمھاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے خداسے بخشش مانگو بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے
سورۃالممتحنہ کی آیت نمبر۱۰ میں تو اللہ تعالیٰ نے صاف اور سیدھے الفاظ میں نبیٔ اکرم صل اللہ علیہ وسلم کو عورتوں کو بیعت کرنے کا حکم دیااور ان کے لئے بخشش بھی مانگنے کا کہاہے۔ جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی دعا کو ردّ نہیں کرتا۔ اسی سنت کو پورا کرنے کے لئے خدا کے نیک بندے اولیاء اللہ لوگوں کو بیعت کرتے ہیں اور ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں سے مخلوق پر اپنا فضل کرتا ہے۔
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ اکرام ؓ کو کئی موقعوں پر بیعت کیامثلاً جہاد، اسلام اور احکامات پر۔اِسکے متعلق بہت ساری احادیث صحیحہ موجود ہیں
حضرت ابنِ عوف اشجیٔ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبیٔ پاک صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے سات ،آٹھ یا نو لوگ تھے۔آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی بیعت نہیں کروگے؟ہم نے ہاتھ آگے بڑھائے اور عرض کی یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم ہم کس بات پر آپ سے بیعت کریں۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس بات پر کہ ’’ اللہ کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں گے، پانچ وقت کی نماز ادا کریں گے اور جو سنا اس پر عمل کریں گے‘‘
یہ حدیث مبارکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بیعت جورسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے لی ،نہ تو ایمان کے لئے تھی اور نہ کسی جہادکے لئے تھی بلکہ یہ تو صرف اعمالِ صالحہ کے لئے تھی۔
Friday, November 15, 2013
بیعت
بیعت
بیعت عربی زبان کا لفظ ہے جو کہ ’’ بیع ـ‘‘سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے تجارت۔
تجارت کا عام مہفوم یہ ہے کچھ خریدنا یا بیچنا یعنی خریدوفروخت۔ مزید سمجھنے کے لئے ہمارے ملک میں یہ عام رواج ہے کہ جب کوئی زمین کا سودا طے کرتا ہے تو بیچنے والا اور خریدنے والا ایک تحریر لکھوا لیتے ہیں جس کو ’’بیعنامہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بیعنامہ دونوں یعنی خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور دونوں اس تحریر کا بہت احترام کرتے ہیں۔ یہ مثال تو سمجھانے کے لئے تھی ہمارا موضوع یہ خریدو فروخت یا تجارت سمجھانا یا سمجھنا نہیں ہے۔
یہاں ایک بات جو سمجھنے کی ہے کہ بیعت ہونا کیا کاروائی ہے۔ اس کے لئے سادہ سی مثالیں بیان کی جاتی ہیں۔
ایک شخص ہے وہ کپڑے کا کاروبار کرنا چاہتا ہے ۔ اس کے لئے دو راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ ایک دوکان حاصل کرے،کپڑا تھوک میں خریدے اور دوکان کھول کر کام شروع کردے۔ اس میں جو مسائل درپیش ہونگے وہ ان کو کس طرح حل کریگا، ادھارلین دین ، ٹیکس ، کپڑے کا آوٹ آف سیزن ہوجانا وغیرہ وغیرہ۔ اس طریقے میں نقصان ہو جانے کاخطرہ بہت زیادہ ہے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ کچھ دن کسی اچھی دوکان جہاں لین دین بھی اچھا ہو، خریداری بھی زیادہ ہوں۔ وہاں تجربہ حاصل کرے اور کچھ علم سیکھے تو اسطرح وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ کن حالات کو کس طرح سنبھالا جاتا ہے۔
یہاں ایک اعتراض ہو سکتا ہے کہ وہ اکائونٹس ، بزنس ایڈمنسٹریشن اور پبلک ایڈمنسٹریشن کا علم حاصل کرے۔ پہلی بات یہ کہ یہ تمام علم ہر کوئی حاصل نہیں کر سکتا۔اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مثلاً طالبِ علمی کے دنوںمیںمالی حالات، علم کی کمی، پڑھائی کی عدم توجھی وغیرہ وغیرہ ۔دوسری بات یہ کہ اگر ان تمام علوم کا حامل ہی کامیاب ہو سکتا ہے تو شاید اتنے بازار اور منڈیاں نظر ہی نہ آتیں۔تیسری بات یہ کہ ان تمام علوم کے حاصل کرلینے کہ باوجود سب سے اہم چیز تجربہ ہے جو کہ کسی ماہر استاد ہی کی نگرانی میں ہو سکتا ہے۔
دل میں خیال پیدا ہوا کہ ڈاکٹر بن کر دُکھی مخلوق اور بیماروں کی خدمت کی جائے۔ اس کے لیے ایک ہی جائز اور صحیح راستہ ہے کہ میڈیکل یا طب کا علم حاصل کرنے کے لئے کسی کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ لیا جائے اس کے بعدتجربہ کار اور ماہر اساتذہ کی زیرِ نگرانی کچھ عرصہ کام کیا جائے۔ پھر اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر مخلوق کی خدمت کی جائے۔ لیکن اگر کوئی بغیر علم و تجربہ کے لوگوں کو دوائیاں دینا شروع کردے ٹیکے لگانے شروع کردے اور لوگوں کو غلط قسم کے مشورے دینا شروع کردے تو یہ قانوناً اور اخلاقاً جرم ہے اور اس کے لئے سزاکا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ایک شخص اگر مسجد میں امامت کروانا چاہتا ہے تو اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ماہر استاد سے قرآن شریف کی قراء ت سیکھے، تجویدپڑھے، اُسے حفظ کرے ، نماز یاد کرے اور نماز کے متعلق فقہی مسائل کا علم حاصل کرے تو وہ اس قابل ہو گا کہ امامت کرواسکے۔ لیکن اگر وہ اِن تمام جملہ علوم سے ناواقف ہو تو کوئی اسکے پیچھے نماز پڑھنے کو تیارنہ ہوگااور نہ ہی وہ نماز پڑھا سکے گا۔
پس اسی طرح اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ وہ اللہ کا خاض بندہ بننا چاہتا ہے، اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتاہے۔ اللہ کا دوست بننا چاہتا ہے۔ ایسا بندہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فرمایا ہے
الَآ اِنَّ اَوْلِیَآ ئَ اللّٰہِ لَاْ خَوْفُٗ عَلَیْھِمْ وَلَاْ ھُم یَحْزَنُوْنَ
خبردار! بے شک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ وغمگین ہوں گے
الَّذ ِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ
(وہ) ایسے لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (ہمیشہ) تقویٰ شعار رہے(سورۃ یونس)
اس کے دل میں اللہ کی مخلوق کے لئے درد ہے ۔ وہ اللہ کی رضاحاصل کرنے کے لئے مخلوقِ خداکی خدمت کرنا چاہتا ہے(خدمت کی بہت سی اقسام ہیں جو کہ یہاں ہمارا موضوع نہیں ہے)۔ نبیٔ پاک صل اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق سے مخمور ہونا چاہتا ہے۔ اللہ کے دین کی خدمت کرنا چاہتا ہے تواُسے اللہ کے کسی خاص بندے جس کا تذکرہ اوپر آیت میں گزرا ہے،کی خدمت میں ادب سے حاضر ہونا چاہیے اور بیعت کے لئے درخواست کرنی چاہیے۔
پیغمبر تو اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوتے ہیں لیکن ولایت کے لئے جو کوشش کرے، ریاضتیں کرے،نفس کو روکے برایئوں سے اور بے جا خواہشوں سے جن کو پورا کرنے کے لئے جائز اور ناجائز ہر طرح کے طریقے استعمال کرنے پڑیں تو اس کے لئے اللہ کا دروازہ کھلا ہے۔
ان مثالوں سے ایک بات جو کہ نہایت ہی آسانی کے ساتھ سمجھ میں آجاتی ہے وہ یہ کہ ہر قِسم کے فن کو سیکھنے کے لئے، ہر قِسم کے علم کو حاصل کرنے کے لئے۔ اِس دنیا میں بہت ساری قابلِ قدراور معیاری کُتب موجود ہونے کے باوجوداستاد کی ضرورت باقی رہتی ہے۔اور یہ ضرورت ِ استادانسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ استاد ہی ایک ایسی شخصیت ہوتی ہے جو اپنی مہارت ، اپنے تجربات اور اپنے علم سے سیکھنے والے کو چند لمحوں میں وہ باتیں بتا سکتا ہے کہ جن کو معلوم کرنے کے لئے کئی سال درکار ہوں یا نقصانات بھی برداشت کرنے پڑیں اور پھر بات سمجھ میں آئے۔
لہٰذابیعت ہونایہ کاروائی ہے کہ جس کے تحت خریدنے والا اور بیچنے والا، استاد و شاگرد، پیر اور مرید ایک زبانی یا تحریر شدہ معاہدے پر عمل کرنے یا اس پر کاربند رہنے کا عہد کرتے ہیں
بیعت کا رواج نبیٔ پاک صل اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے خلافتِ راشدہ اور اسکے کچھ عرصہ بعد تک کافی عام رہاہے لیکن جب اسلامی ریاست دنیا کے وسیع و عریض رقبہ پر پھیل گئی تو سلاطین و امراء نے اسکو متروک کردیا۔ لیکن اھلُ اللہ نے ، اولیاء اللہ نے اس کو جاری رکھا جو آج تک جاری ہے اور قیامت تک انشاء اللہ جاری رہے گا۔
ہمارا موضوع تو اُس ’’بیعت‘‘ کے بارے میں سمجھنااور سمجھانا ہے جوکہ ایک طالبِ حق کسی اللہ کے ولی کے ہاتھ پر کرتاہے۔ ایک مرید کسی مُرشد کی بیعت کرتا ہے۔ ایک خدا کا قرب چاہنے والا خدا کے برگزیدہ بندے کے ہاتھ پر کرتا ہے۔
درحقیقت جب کوئی بندئہ خدا کسی اللہ کے ولی کے پاس جاتا ہے اگر اُس کے دل میں خدا کا قرب حاصل کرنے کا شوق ہو، اللہ سے ملاقات کا شوق ہو، طالبِ حق ہو، آخرت کی زندگی پر نظر رکھتا ہو کہ اس زندگی کے بعد بھی ایک زندگی آنے والی ہے جوکہ دارالعمل نہیں بلکہ دارالجزا ہے ، اُس روز اللہ کے سامنے اور نبیٔ پاک صل اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے تو وہ اس اللہ کے ولی سے ’’بیعت‘‘ کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ (مگر یہ کیفیات ہر کسی میں نہیں پائی جاتیں) ۔
بعض اولیاء اللہ لوگوں کو بُلا بُلا کر بھی بیعت کرتے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔
Wednesday, November 13, 2013
راہ سلوک
سلوک
سلوک کا لفظ ’’ سَلَکَ ‘ ‘ ، ’’ مُنْسَلَکْ ‘‘ سے ہے۔ جس کا مدعا اتصال اور پیوستگی ہے۔
انسان بدن اور روح کا مرکب ہے اپنے بدن کی اصلاح کے لئے، اس کی دیکھ بھال کے لئے دن رات کوشش کرتاہے۔ طرح طرح کے علاج ڈھونڈتا ہے۔ اسے درست حالت میں رکھنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہتا ہے۔
مگر روح کی اصلاح سے اکثرغافل ہو جاتاہے۔ روحانی اصلاح صرف سلوک کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔
رسولِ کریم صل اللہ علیہ وسلم نے ساری انسانیت کو اس بات کی تعلیم دی کہ کس طرح انسان ہر وقت اپنے آپ کوخُدا کی بارگاہ میں پیش کرسکتا ہے اورہر لمحہ بلکہ ہر سانس میں خدا سے تعلق کو مضبوط بنا سکتا ہے اور اپنی ساری زندگی کو عبادت کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے اور بہترین مشعل راہ ہے۔آپ صل اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی اصل میں راہِ سلوک ہے۔
سلوک وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان روحانی اصلاح کی منازل حاصل کرسکتا ہے۔ راہِ سلوک پر چلنے والے کو "سالک" کہتے ہیں۔
جس کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنے مرشد و رہبرسے اپنے تعلق کو مضبوط کرے کیونکہ حقیقی مرشد ورہبر نائبِ رسول ہوتاہے۔سالک کوراہِ سلوک پر چلنے سے وہ مقامات نصیب ہوتے ہیں جو اسکی ساری زندگی کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اس لئے اشد ضرورت اس امر کی ہے کہ راہ سلوک پر چلنے کے بعد اپنے آپ کو فروعاتی باتوں میں نہیں الجھانا چاہیے اور اپنی زندگی کو خسارہ میں نہیں ڈالنا چاہیے۔
راہِ سلوک پر چلنے والوں کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کسی اونچے پہاڑ پر کوئی پھول کھلا ہو اور بہت ساری چیونٹیاں اس تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ کچھ تو پھول تک پہنچ جاتی ہیں اور کچھ راستے میں ہی دم توڑ دیتی ہیں۔ ہر چیونٹی کی کامیابی کا معیار اس پھول سے قریب یادورہونے پر ہوتا ہے۔اسی طرح راہ سلوک پر چلنے والوں کے لئے منازل ہوتی ہیں جو کہ وہ اپنی کوشش سے اور مرشد کی راہنمائی میں طے کرتا چلا جاتا ہے۔
راہِ سلوک پر چلنے کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے۔
Monday, November 11, 2013
ذکر کی اقسام بلحاظ حقیقت
ذکر کی اقسام بلحاظ حقیقت
۱۔ ذکر لسانی ۲۔ ذکر قلبی
ذکرِ لسانی میں سالک اپنی زبان سے ذکر شروع
کرتا ہے اورپھر ایسا وقت آجاتا ہے کہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے ہر وقت تر رہتی ہے۔
یہ جس کو نصیب ہوجائے وہ نہایت ہی خوش نصیب انسان ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسولِ
مقبولﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہر
وقت اس زمین پر ہر شخص پر برس رہی ہیں۔ مگر اس سے بڑھ کر کسی دوسرے پر نہیں کہ اگر
اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اپنی یاد کی توفیق دیدے۔
ذکرِ لسانی میں جب انسان کی زبان پر اللہ
کا ذکر جاری ہوجاتا ہے ۔ (ذکر کا جاری ہوجانا یہ ہے کہ سالک بغیر ارادہ کے بھی ہر وقت
اللہ کا ذکر جاری رکھے)۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ،
1۔ سالک اپنے آپ کوخود
ذکر کی طرف متوجہ رکھے،
2- سالک کی ذکر کرنے سے ایسی حالت ہو جائے کہ ہر
وقت اس کی زبان پر ذکر جاری رہے۔
ذکرِ قلبیاگلی منزل ہے۔ جس
میں زبان سے ذکر ہو یا نہ ہو اس کا دل ہر وقت ذکر میں مشغول رہے۔ یہ حالت سالک کے لیے
اصل نصیب کی بات ہے۔ہاتھوں سے کام کرے، پاؤں سے چلے، یہاں تک کہ زبان سے کلام کرے
مگر اس کا دل ہر وقت خدا کی یاد میں دھڑکتا رہے۔ یہ کیفیت صرف بہت اعلیٰ نصیب والوں
کو ہی ملتی ہے۔
یہ بات نہایت ہی قابلِ فہم اور اہمیت کی
حامل ہے کہ سالک کو اس مقام جو کہ نہایت ہی بلند ترین مقام ہے تک پہنچنے کے لئے پہلے
تمام مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یعنی ذکر جہر اور ذکر خفی دونوں میں ذکر لسانی سے زبان
کو تر کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ذکرِ قلبی کا مقام آتا ہے جو کہ ارفع و اعلیٰ چیز ہے
۔
اللہ تعالیٰ تمام سالکین کے نصیب میں کرے (آمین)
ذکر کی اقسام بلحاظ طریقہ
ذکر کی اقسام بلحاظ طریقہ
۱۔ ذکرِ جہری ۲۔ ذکرِ خفی
ذکرِ جہری میں اونچی آواز میں اللہ کا
ذکر کیا جاتا ہے۔ذکر جہری کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے اور اس کی اپنی ایک ضرورت بھی ہے۔
بلکل اُسی طرح کہ جس طرح کچھ نمازیں جہری ہیں اور کچھ خفی۔ سورج کے غروب ہونے کے بعد
سے لیکر سورج طلوع ہونے تک جو نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں وہ جہری کہلاتی ہیں
۔ اور جو جمازیں سورج نکلنے کے بعد سے سورج غروب ہونے سے پہلے جماعت کے ساتھ پڑھی جائیں
وہ خفی کہلاتی ہیں۔
نبیٔ پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جہاں تک اللہ کے ذکر کی آواز جاتی ہے وہاں تک شیطان
بھاگتا ہے بعض ذاکرین کے نزدیک یہ طریقہ افضل ہے۔
ذکر خفی میں بغیر آواز کے ذکر کیا جاتا
ہے۔ جیسے قرآنِ مجید کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اور اپنے ربّ
کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح وشام یاد کرتے رہو اور غافل
نہ ہونا(الاعراف:۲۰۵)۔ بعض ذاکرین کے نزدیک یہ طریقہ افضل ہے۔
درحقیقت یہ دونوں طریقے ہی افضل ہیں دونوں
کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔ حقیقت میں یہ طبیعت کا ملان ہے۔ آقا ﷺ کبھی اونچی آواز میں اور کبھی دھیمی آواز میں
قرآن تلاوت فرماتے ۔حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طبیعت دھیمی تھی آپ ہمیشہ دھیمی آواز
میں قرآن مجید کی تلاوت فرماتے نبیٔ پاک ﷺ نے فرمایا کہ آپؓ دھیمی آواز میں ہی قرآن مجید تلاوت کیا کریں۔ دوسری
طرف حضرت عمرؓ کی طبیعت جوشیلی تھی آپ ہمیشہ اونچی میں آواز میں قرآن مجید تلاوت
فرماتے۔ نبیٔ پاکﷺ نے فرمایا آپؓ اونچی آواز میں ہی قرآنِ مجید
تلاوت کیا کریں۔
لہٰذا دونوں طریقوں سے ذکر کرنا ہی افضل ہے جسکی بھی اللہ توفیق عطا فرمائے۔
لہٰذا دونوں طریقوں سے ذکر کرنا ہی افضل ہے جسکی بھی اللہ توفیق عطا فرمائے۔
Friday, November 8, 2013
اللہ کےذکرکی اہمیت
ذِکَر
انسان مرکب ہے جسم اور روح کا دونوں کی اپنی اپنی ضروریات ہیں۔ جسم مٹی
سے بناہے جبکہ روح نور سے بنی ہے۔ جسم کو خوراک کی ضرورت رہتی ہے اگر کچھ دیر کے لیے
جسم کو خوراک مہیا نہ کی جائے تو یہ بیچین ہو جاتا ہے اور اس کی خوراک ہوا، مٹی ، پانی
اور آگ سے حاصل ہوتی ہے۔ دوسری طرف روح کی بھی اپنی ضروریات ہیں۔ اس کو بھی خوراک کی
ضرورت پڑتی ہے اور روح چونکہ نور سے ہے اس کی خوراک وہ چیز ہے جس سے اس کی نشونما
ہوتی
ہے۔ لہٰذاروح کی غذا یادِ الہٰی ہے جسے ’’
ذکر ‘‘ کہتے ہیں۔
روح کی غذا اللہ کا ذکر ہے
یاد الہٰی کے کئی طریقے ہیں مثلاً نماز پڑھنا، قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا،
درود شریف پڑھنا، اللہ کے پاک ناموںکا ورد کرنا،نوافل ادا کرنا، اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا
شکر بجالانا، اللہ کی یاد کودل میں رکھتے ہوئے حلال روزی کی تگودو کرنا وغیرہ وغیرہ
قرآن مجید فرقانِ حمید میں اللہ تبارک
و تعالیٰ نے ذکر کو خاص اہمیت دی ہے جس کے لئے چند آیات یہاں پیش کی جا رہی ہیں
فَاذْ کُرُوْنِیٓ اَذْکُرْکُمْ
پس تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا(البقرہ:152)
فَاِذَاقَضَیْتُمُ الصَّلوٰۃَ فَاذْکُرُوا
اللّٰہَ قِیَاماًوَّقُعُوْدًاوَّعَلَی جُنُوْبِکُمْ
پھر جب تم نماز تمام کر چکو تو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہر کروٹ پر اللہ
تعالیٰ کو یاد کرو ۔(النساء:103)
وَاذْ کُرْزَبَّکَ فَیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًاوَّخِیْفَۃً
وَّدُوْنَ الجَھْرِمَنْ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ
وَالْاَصَالِ وَلَاتَکُنْ مِنْ الْغٰفِلِیْنَ
اور اپنے ربّ کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح
و
شام یاد کرتے رہو اور غافل نہ ہونا(الاعراف:205)
رِجَالُ لَّاْتُلھِیْھِمْ تِجَارَۃُوَّلَاْبَیْعُ
عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ
ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ کے ذکر سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے اور نہ ہی
خریدو فروخت(النور:37)
وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ
اور اللہ کا ذکر تو سب سے بڑا ہے (العنکبوت:152)
وَاذْکُرِاسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ
تَبْتِیْلَا
اوراپنے رب کے نام کا ذکر کرتے رہو اور ہر طرف سے بے تعلق ہو کر(المزمل:8)
سالک کو اپنا خیال درست رکھنا چاہیے اور
ہر وقت اپنے آپ کو خدا کی نوکری میں، خداکی حضوری میں رکھنا چاہیے۔ جب یہ کیفیت نصیب
ہو جائے تو پھر جو بھی حلال اور جائز کام کرے وہ عبادت بن جاتا ہے۔ سالک کو چاہیے کہ
وہ اس بات کے لئے سخت کوشش کرے کہ اس کے دل میں اللہ کی یاد قائم ہو جائے اور غفلت
دور ہوجائے۔کیونکہ
جو دم غافل سو دم کافر
Labels:
Allah ka Zikar,
Zikar
Thursday, November 7, 2013
علم کی فرضیت اور اہمیت
علم
علم ایک ایسی نعمت ہے جس کو حاصل کر لینے
سے انسان خدا کو پہچانتا ہے۔
فی زمانہ علم کی بہت سی اقسام کہی جاتی
ہیں مثلاً علمِ طب، علمِ ریاضی، علمِ طبعیات، علمِ کیمیا، علمِ قرآن، علمِحدیث، علمِ
فقہ، علمِ سائنس، علمِ کمپیوٹر سائنس، علمِ نجوم، علمِ اسٹرونومی، علمِ معاشیات، علمِ
شماریات، وغیرہ وغیرہ
وہ علم جو اپنے اصل مقصد کو حاصل کرنے میں
مدد نہ دے وہ غیر ضروری
ہے۔ اور وہ علم جو حاصل کرنے کے بعد انسان کے کام نہ آئے وہ وقت کا ضیاع ہے۔
ہے۔ اور وہ علم جو حاصل کرنے کے بعد انسان کے کام نہ آئے وہ وقت کا ضیاع ہے۔
علم کی فرضیت کے بارے میں قرآن کی آیات
میں سے سب سے زیادہ معتبر اور سند والی آیت جس میں نبئی محترم ﷺ نے خود اپنے علم میں
اضافہ کے لئے دعا کی
رَبِّی زِدْنِی عِلْماً
اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما
O God! Increase my
knowledge
حضور نبئی پاک ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ
علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان عورت اور مرد پر فرض ہے
اس آیت یعنی قرآنی( دعا ) اور حضورﷺ کے فرمان کے بعد علم کی اہمیت سے انکار گمراہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا
ہے کہ کون سا اور کتناعلم۔
"وہ علم جوعافیت سے زندگی گزارنے اور سفرِ آخرت میں راحت کے لئے ضروری ہے۔ "
یہ نہایت ہی اہم ترین نقطہ ہے اس کو سالک کے لئے سمجھنا ضروری ہے۔
علمِ کمپوٹر سائنس، علمِ طب، علمِ صنعت و حرفت، علمِ حساب وکتاب، علمِ
کاروباری انتظامی امور کے علوم تو انسان کے لئے روزی روٹی کمانے کے لئے مددگار ہیں۔
یہ علوم ذریعہ معاش کے لیے مدد گار ہیں۔ ان کا سیکھنا اس نیت سے کہ خدا کی مخلوق کے
آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے اور حلال روزی کی تگودو کرنے کے لئے اور اس نیت سے کہ دوسروں
کو تعلیم دی جائے تاکہ وہ بھی اپنے معاشی معملات کو احسن اور بہتر طریقے سےچلا سکیں
اورمخلوق کی محتاجی سے بچیں۔
اس کے بعد اب جن علوم کا تزکرہ کیا جا رہا
ہے جن کو سِرّی علوم کہا جاتا ہے۔ ان کا حاصل کرنااصل میں فرض قرار دیا ہے۔اوپر
بتائے گئے۔ پہلے تذکرہ کئے گئے علوم معاشی اور معاشرتی کو استعمال کرنے کےدوران وہ
کون سا علم ہے جو تگودو کے حلال اورحرام میں فرق کرنے میں مدد دیتاہے۔ انسان کو عبادات
کرنے اورصحیح روح کے ساتھ عبادات کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اس بات کو سمجھنے کیلئے چند مثالوں پر غور
کیا جا سکتا ہے
ایک شخص بڑی محنت سے 16 سال یا اس سے ذیادہ سال لگا کر ماسٹر ان بزنس
ایڈ منسٹریشن کاعلم حاصل کرتا ہے، اورخوب دل لگا کر علم حاصل کرتا
ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب اس انتھک محنت کے بعد ڈگری حاصل کرلینے کے بعداس کو
اجازت نامہ مل گیا کہ وہ جس طرح چاہے یا جیسے کاروبار سے چاہے مال کمانا شروع کردے۔
ہر گز ہرگز نہیں۔ اس کے بعد اُسے ایسے علم کی ضرورت ہے جو کہ اس کوحلال اور حرام میں
تمیز کرنے میں مدد کرتا ہو۔
اسی طرح کسی بھی معاشی علم کو حاصل کرلینے
کے بعد اُس علم کی ضرورت باقی رہتی ہے جو کہ اس معا ملے میں مدد فراہم کرے جو حلال
و حرام میں تمیز کرے۔
اس دنیا میں عافیت سے زندگی گزارنے اور
آخرت کے سفر میں راحت کے لئے جن علوم کی ضرورت پڑتی ہے وہ تین ہیں۔
۱۔علمِ توحید
۲۔علمِ سِر
۳۔علم شریعت
علمِ توحید یہ کہ اللہ تعالیٰ واحدہٗ لاشریک
ہے اورمحمد مصطفٰے ﷺ اسکے آخری نبی اور رسول ہیں۔ قرآن اللہ کی عطاکردہ
کتاب ہے جوکہ سراسر ہدایت اور سچ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایک دن روزِ جزا مقرر کررکھاہے
اور وہ آنے والا ہے۔
علمِ سِر یہ کہ کس طرح سے زندگی کے روز
مرّہ کے معملات کو اللہ کے حکم کے مطابق چلایا جائے۔ جس میں توکل، صبر، شکر، گناہوں
سے بچنا اور بچانا، نیکیوں کاکرنا اور ان کا حکم کرنا شامل ہے۔
علمِ شریعت میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور
جہاد کا علم ہے اور ان کے مسائل کو سمجھنا (فقہ) جو کہ روز مرّہ زندگی میں ان امور
کو صحیح صحت کے ساتھ انجام دینے کے لئے ضروری ہیں
علم کے باب میں بہت کچھ مزید لکھا جا سکتا
ہے مگر اختصار سے کام لیا جا رہا ہے تاکہ صِرف اصل حقیقت کو بیان کیا جاسکے ورنہ بہت
بڑی اور ضحیم کتُب موجود ہیں جو کہ ان علوم اور اس کے علاوہ بہت سی چیزوں پر مزید وضاحت
کر سکتی ہیں۔
علم کا حاصل کرنا ایک نہایت ہی ضروری ترین عمل ہے اس کے بغیر سالک عبادت
کر ہی نہیں سکتا۔ اگر نمار پڑھنا چاہے تو کون کون سی کس کس وقت پر پڑہے، وقت کی پابندی
یا وقت کی قید کیا چیز ہے، قرآن کی تلاوت کہاں، کیسے جہری یا سِری، دعائیں کون کون
سی اور کس موقع پر، اذان کیسے ، اقامت کیسے، جماعت کیسے، امامت کیسے وغیرہ وغیرہ یہ
سب علم ہی تو ہے اگر کسی کو ان چیزوں کا علم نہیں تو وہ نماز ادا ہی نہیں کرسکتا۔نماز
، اذان، اقامت، امامت، جماعت،زکوٰہ، مصارفِ زکوٰۃ، حج اور جہاد کے جملہ مسائل کو سیکھنا
ہر سالک کے لیے نہایت ہی ضروری ہے۔
صِرف بات کو سمجھانے کے لئے ایک مختصر سا
واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ کسی جگہ پر بہت سے لوگ جمع تھے عصر کی نماز کا وقت شروع
ہو گیا۔ ایک صوفی نما شخص نے اٹھ کر اذان پڑھ دی اب دوسرا ایک صوفی نما شخص اٹھا اس
نے پہلے والے شخص جس نے اذان پڑھی تھی کو کہنے لگا کہ پچھلے ہفتے اذان کا وقت ۱۵ منٹ آگے کردیا گیا تھاتم نے اذان پہلے
پڑھ دی۔ دونوں میں تکرار ہوگئی ان میں سے ایک شخص بولاکہ میں کوئی مولوی نہیں ہوں جو کہ
یہ بتا سکوں کہ اذان دوبارہ دینا ہوگی کہ نہیں ہوگی۔
یہاں اس واقعہ کے بیان کرنے کا مقصد صِرف
اتنا ہے کہ سالک کے لئے ان اوپر بتائے گئے علوم کا حاصل کرنانہایت ہی ضروری ہے ورنہ
وہ مخلوقِ خدا کی خدمت جو کہ اصل مقصد ہے تو کیا، اپنی ذاتی عبادت بھی مکمل اور صحیح
طریقہ سے نہیں کر سکتا۔
Labels:
Ilam,
Increase my Knowledge,
Knowledge,
علم
Subscribe to:
Posts (Atom)

























