Tuesday, November 19, 2013

بیعت کی اقسام

بیعت کی اقسام

١۔ بیعتِ لغو        ٢۔ بیعت ضلالت  ٣ ۔ بیعتِ سُنت  ٤۔ بیعتِ فرض  

بیعتِ لغو(جھوٹی)۔ 

جب بیعت کرنے والا اور بیعت ہونے والا دونوں ہی سلوک سے نابلد ہوں ، دونوں یہ نہ جانتے ہوں کیوں بیعت کررہا ہو یا کیوں بیعت ہو رہا ہوں تو ایسی بیعت کو ’’بیعتِ لغو‘‘ کہتے ہیں۔ دونوں کو توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔

(بیعتِ ضلالت (گمراہی

جب کوئی شخص پیر کی سی وضع قطع بناکر کسی بستی میں چلا جائے اور نہ اسکو سلوک کا علم ہو نہ اُس کو اس کی اجازت ہو،نہ مسائل علم ہو،اپنے سے باتیں گھڑ کر لوگوں کو بتائے، لوگوں کو گمراہ کرکے لوگو سے پیسے بٹورے ۔ تو ایسی بیعت کو ’’بیعتِ ضلالت‘‘ کہتے ہیں

یہ پہلی دونوں قِسم کی بیعت گناہ ہیں اور ان سے بچنا ضروری ہے

بیعتِ سُنت

اگر کوئی شخص طبعاً نیک ہو اور وہ اپنی غلطیوں کی ، اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کے لئے کسی بندئہ خدا کے پاس چلا جائے۔اور اس مقصد کے لئے بیعت کرلے تو اس بیعت کو ’’بیعتِ سُنت‘‘ کہتے ہیں۔اور یہ باعثِ برکت ہے۔ جیسا کہ سورۃ الممتحنۃ کی آیت نمبر ١٢میں عورتوں کے بیعت کرنے کا ذکر ہے

بیعتِ فرض

خالصتاً اللہ کے رضا کے لئے اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اللہ کاخاص بندہ بننے کے لئے۔ اللہ تعالیٰ اور نبیٔ پاک صل اللہ علیہ وسلم کے عشق سے سرشار ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ کسی صاحبِ اجازت اور حقیقتاً اللہ کے ولی کے پاس جاکر اسکی بیعت کی جائے۔اس کو ’’بیعتِ فرض‘‘ کہتے ہیں۔


No comments:

Post a Comment