علم
علم ایک ایسی نعمت ہے جس کو حاصل کر لینے
سے انسان خدا کو پہچانتا ہے۔
فی زمانہ علم کی بہت سی اقسام کہی جاتی
ہیں مثلاً علمِ طب، علمِ ریاضی، علمِ طبعیات، علمِ کیمیا، علمِ قرآن، علمِحدیث، علمِ
فقہ، علمِ سائنس، علمِ کمپیوٹر سائنس، علمِ نجوم، علمِ اسٹرونومی، علمِ معاشیات، علمِ
شماریات، وغیرہ وغیرہ
وہ علم جو اپنے اصل مقصد کو حاصل کرنے میں
مدد نہ دے وہ غیر ضروری
ہے۔ اور وہ علم جو حاصل کرنے کے بعد انسان کے کام نہ آئے وہ وقت کا ضیاع ہے۔
ہے۔ اور وہ علم جو حاصل کرنے کے بعد انسان کے کام نہ آئے وہ وقت کا ضیاع ہے۔
علم کی فرضیت کے بارے میں قرآن کی آیات
میں سے سب سے زیادہ معتبر اور سند والی آیت جس میں نبئی محترم ﷺ نے خود اپنے علم میں
اضافہ کے لئے دعا کی
رَبِّی زِدْنِی عِلْماً
اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما
O God! Increase my
knowledge
حضور نبئی پاک ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ
علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان عورت اور مرد پر فرض ہے
اس آیت یعنی قرآنی( دعا ) اور حضورﷺ کے فرمان کے بعد علم کی اہمیت سے انکار گمراہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا
ہے کہ کون سا اور کتناعلم۔
"وہ علم جوعافیت سے زندگی گزارنے اور سفرِ آخرت میں راحت کے لئے ضروری ہے۔ "
یہ نہایت ہی اہم ترین نقطہ ہے اس کو سالک کے لئے سمجھنا ضروری ہے۔
علمِ کمپوٹر سائنس، علمِ طب، علمِ صنعت و حرفت، علمِ حساب وکتاب، علمِ
کاروباری انتظامی امور کے علوم تو انسان کے لئے روزی روٹی کمانے کے لئے مددگار ہیں۔
یہ علوم ذریعہ معاش کے لیے مدد گار ہیں۔ ان کا سیکھنا اس نیت سے کہ خدا کی مخلوق کے
آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے اور حلال روزی کی تگودو کرنے کے لئے اور اس نیت سے کہ دوسروں
کو تعلیم دی جائے تاکہ وہ بھی اپنے معاشی معملات کو احسن اور بہتر طریقے سےچلا سکیں
اورمخلوق کی محتاجی سے بچیں۔
اس کے بعد اب جن علوم کا تزکرہ کیا جا رہا
ہے جن کو سِرّی علوم کہا جاتا ہے۔ ان کا حاصل کرنااصل میں فرض قرار دیا ہے۔اوپر
بتائے گئے۔ پہلے تذکرہ کئے گئے علوم معاشی اور معاشرتی کو استعمال کرنے کےدوران وہ
کون سا علم ہے جو تگودو کے حلال اورحرام میں فرق کرنے میں مدد دیتاہے۔ انسان کو عبادات
کرنے اورصحیح روح کے ساتھ عبادات کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اس بات کو سمجھنے کیلئے چند مثالوں پر غور
کیا جا سکتا ہے
ایک شخص بڑی محنت سے 16 سال یا اس سے ذیادہ سال لگا کر ماسٹر ان بزنس
ایڈ منسٹریشن کاعلم حاصل کرتا ہے، اورخوب دل لگا کر علم حاصل کرتا
ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب اس انتھک محنت کے بعد ڈگری حاصل کرلینے کے بعداس کو
اجازت نامہ مل گیا کہ وہ جس طرح چاہے یا جیسے کاروبار سے چاہے مال کمانا شروع کردے۔
ہر گز ہرگز نہیں۔ اس کے بعد اُسے ایسے علم کی ضرورت ہے جو کہ اس کوحلال اور حرام میں
تمیز کرنے میں مدد کرتا ہو۔
اسی طرح کسی بھی معاشی علم کو حاصل کرلینے
کے بعد اُس علم کی ضرورت باقی رہتی ہے جو کہ اس معا ملے میں مدد فراہم کرے جو حلال
و حرام میں تمیز کرے۔
اس دنیا میں عافیت سے زندگی گزارنے اور
آخرت کے سفر میں راحت کے لئے جن علوم کی ضرورت پڑتی ہے وہ تین ہیں۔
۱۔علمِ توحید
۲۔علمِ سِر
۳۔علم شریعت
علمِ توحید یہ کہ اللہ تعالیٰ واحدہٗ لاشریک
ہے اورمحمد مصطفٰے ﷺ اسکے آخری نبی اور رسول ہیں۔ قرآن اللہ کی عطاکردہ
کتاب ہے جوکہ سراسر ہدایت اور سچ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایک دن روزِ جزا مقرر کررکھاہے
اور وہ آنے والا ہے۔
علمِ سِر یہ کہ کس طرح سے زندگی کے روز
مرّہ کے معملات کو اللہ کے حکم کے مطابق چلایا جائے۔ جس میں توکل، صبر، شکر، گناہوں
سے بچنا اور بچانا، نیکیوں کاکرنا اور ان کا حکم کرنا شامل ہے۔
علمِ شریعت میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور
جہاد کا علم ہے اور ان کے مسائل کو سمجھنا (فقہ) جو کہ روز مرّہ زندگی میں ان امور
کو صحیح صحت کے ساتھ انجام دینے کے لئے ضروری ہیں
علم کے باب میں بہت کچھ مزید لکھا جا سکتا
ہے مگر اختصار سے کام لیا جا رہا ہے تاکہ صِرف اصل حقیقت کو بیان کیا جاسکے ورنہ بہت
بڑی اور ضحیم کتُب موجود ہیں جو کہ ان علوم اور اس کے علاوہ بہت سی چیزوں پر مزید وضاحت
کر سکتی ہیں۔
علم کا حاصل کرنا ایک نہایت ہی ضروری ترین عمل ہے اس کے بغیر سالک عبادت
کر ہی نہیں سکتا۔ اگر نمار پڑھنا چاہے تو کون کون سی کس کس وقت پر پڑہے، وقت کی پابندی
یا وقت کی قید کیا چیز ہے، قرآن کی تلاوت کہاں، کیسے جہری یا سِری، دعائیں کون کون
سی اور کس موقع پر، اذان کیسے ، اقامت کیسے، جماعت کیسے، امامت کیسے وغیرہ وغیرہ یہ
سب علم ہی تو ہے اگر کسی کو ان چیزوں کا علم نہیں تو وہ نماز ادا ہی نہیں کرسکتا۔نماز
، اذان، اقامت، امامت، جماعت،زکوٰہ، مصارفِ زکوٰۃ، حج اور جہاد کے جملہ مسائل کو سیکھنا
ہر سالک کے لیے نہایت ہی ضروری ہے۔
صِرف بات کو سمجھانے کے لئے ایک مختصر سا
واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ کسی جگہ پر بہت سے لوگ جمع تھے عصر کی نماز کا وقت شروع
ہو گیا۔ ایک صوفی نما شخص نے اٹھ کر اذان پڑھ دی اب دوسرا ایک صوفی نما شخص اٹھا اس
نے پہلے والے شخص جس نے اذان پڑھی تھی کو کہنے لگا کہ پچھلے ہفتے اذان کا وقت ۱۵ منٹ آگے کردیا گیا تھاتم نے اذان پہلے
پڑھ دی۔ دونوں میں تکرار ہوگئی ان میں سے ایک شخص بولاکہ میں کوئی مولوی نہیں ہوں جو کہ
یہ بتا سکوں کہ اذان دوبارہ دینا ہوگی کہ نہیں ہوگی۔
یہاں اس واقعہ کے بیان کرنے کا مقصد صِرف
اتنا ہے کہ سالک کے لئے ان اوپر بتائے گئے علوم کا حاصل کرنانہایت ہی ضروری ہے ورنہ
وہ مخلوقِ خدا کی خدمت جو کہ اصل مقصد ہے تو کیا، اپنی ذاتی عبادت بھی مکمل اور صحیح
طریقہ سے نہیں کر سکتا۔