Thursday, November 7, 2013

نسبتِ رسولی صل اللہ علیہ والہ وسلم

نسبتِ رسولی صل اللہ علیہ والہ وسلم



جب کسی ہستی کے ساتھ قلبی لگائو، محبت اور پیار کی تعلق حقیقی بنیاد اور پوری آمادگی اور خوش دلی کے ساتھ قائم ہو جائے تو انسان اُس کے ہر حکم کی صرف اطاعت ہی نہیں کرتا بلکہ اُس کی پر ادا اور اشارے پر لبیک کہنے کو اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ وہ ہر وقت محبوب کی پسند اور ناپسند کاخیال رکھتاہے۔ اُسے محبوب کی چال ڈھال، اٹھنے بیٹھنے کا انداز، خوراک اور لباس پہننے کی عادات پیاری لگتی ہیں۔وہ اپنے محبوب کی ادائوں کوبھی اپنانے کی کوشش کرتا ہےخواہ ان کے بارے میں اُس کو کوئی حکم نہ بھی دیا جائے۔

محبت بھرے جذبات اور خوش دلی کے ساتھ محبوب کے حکم کو بجا لانا تو اطاعت ہے مگر اُس کے چشم و ابرو کے اشارے کو سمجھنااور اس کی ادائوں کی نقالی کرنا اطاعت کے ایک قدم آگے کا رویہ ہے اور یہ اتباع کہلاتا ہے۔ جب یہ جذبہ نبئی پاک حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہو جاتا ہے تو اس کو ہم نسبتِ رسُولی کہتے ہیں۔