Monday, November 11, 2013

ذکر کی اقسام بلحاظ طریقہ

ذکر کی اقسام بلحاظ طریقہ

                                ۱۔ ذکرِ جہری                                           ۲۔ ذکرِ خفی

ذکرِ جہری میں اونچی آواز میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ذکر جہری کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے اور اس کی اپنی ایک ضرورت بھی ہے۔ بلکل اُسی طرح کہ جس طرح کچھ نمازیں جہری ہیں اور کچھ خفی۔ سورج کے غروب ہونے کے بعد سے لیکر سورج طلوع ہونے تک جو نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں وہ جہری کہلاتی ہیں ۔ اور جو جمازیں سورج نکلنے کے بعد سے سورج غروب ہونے سے پہلے جماعت کے ساتھ پڑھی جائیں وہ خفی کہلاتی ہیں۔

نبیٔ پاک نے ارشاد فرمایا ہے جہاں تک اللہ کے ذکر کی آواز جاتی ہے وہاں تک شیطان بھاگتا ہے بعض ذاکرین کے نزدیک یہ طریقہ افضل ہے۔

 ذکر خفی میں بغیر آواز کے ذکر کیا جاتا ہے۔ جیسے قرآنِ مجید کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اور اپنے ربّ کو  دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح وشام یاد کرتے رہو اور غافل نہ ہونا(الاعراف:۲۰۵)۔ بعض ذاکرین کے نزدیک یہ طریقہ افضل ہے۔


درحقیقت یہ دونوں طریقے ہی افضل ہیں دونوں کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔ حقیقت میں یہ طبیعت کا ملان ہے۔ آقا کبھی اونچی آواز میں اور کبھی دھیمی آواز میں قرآن تلاوت فرماتے ۔حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طبیعت دھیمی تھی آپ ہمیشہ دھیمی آواز میں قرآن مجید کی تلاوت فرماتے نبیٔ پاک نے فرمایا کہ آپؓ دھیمی آواز میں ہی قرآن مجید تلاوت کیا کریں۔ دوسری طرف حضرت عمرؓ کی طبیعت جوشیلی تھی آپ ہمیشہ اونچی میں آواز میں قرآن مجید تلاوت فرماتے۔ نبیٔ پاک نے فرمایا آپؓ اونچی آواز میں ہی قرآنِ مجید تلاوت کیا کریں۔ 

لہٰذا دونوں طریقوں سے ذکر کرنا ہی افضل ہے جسکی بھی اللہ توفیق عطا فرمائے۔

No comments:

Post a Comment