ذِکَر
انسان مرکب ہے جسم اور روح کا دونوں کی اپنی اپنی ضروریات ہیں۔ جسم مٹی
سے بناہے جبکہ روح نور سے بنی ہے۔ جسم کو خوراک کی ضرورت رہتی ہے اگر کچھ دیر کے لیے
جسم کو خوراک مہیا نہ کی جائے تو یہ بیچین ہو جاتا ہے اور اس کی خوراک ہوا، مٹی ، پانی
اور آگ سے حاصل ہوتی ہے۔ دوسری طرف روح کی بھی اپنی ضروریات ہیں۔ اس کو بھی خوراک کی
ضرورت پڑتی ہے اور روح چونکہ نور سے ہے اس کی خوراک وہ چیز ہے جس سے اس کی نشونما
ہوتی
ہے۔ لہٰذاروح کی غذا یادِ الہٰی ہے جسے ’’
ذکر ‘‘ کہتے ہیں۔
روح کی غذا اللہ کا ذکر ہے
یاد الہٰی کے کئی طریقے ہیں مثلاً نماز پڑھنا، قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا،
درود شریف پڑھنا، اللہ کے پاک ناموںکا ورد کرنا،نوافل ادا کرنا، اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا
شکر بجالانا، اللہ کی یاد کودل میں رکھتے ہوئے حلال روزی کی تگودو کرنا وغیرہ وغیرہ
قرآن مجید فرقانِ حمید میں اللہ تبارک
و تعالیٰ نے ذکر کو خاص اہمیت دی ہے جس کے لئے چند آیات یہاں پیش کی جا رہی ہیں
فَاذْ کُرُوْنِیٓ اَذْکُرْکُمْ
پس تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا(البقرہ:152)
فَاِذَاقَضَیْتُمُ الصَّلوٰۃَ فَاذْکُرُوا
اللّٰہَ قِیَاماًوَّقُعُوْدًاوَّعَلَی جُنُوْبِکُمْ
پھر جب تم نماز تمام کر چکو تو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہر کروٹ پر اللہ
تعالیٰ کو یاد کرو ۔(النساء:103)
وَاذْ کُرْزَبَّکَ فَیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًاوَّخِیْفَۃً
وَّدُوْنَ الجَھْرِمَنْ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ
وَالْاَصَالِ وَلَاتَکُنْ مِنْ الْغٰفِلِیْنَ
اور اپنے ربّ کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح
و
شام یاد کرتے رہو اور غافل نہ ہونا(الاعراف:205)
رِجَالُ لَّاْتُلھِیْھِمْ تِجَارَۃُوَّلَاْبَیْعُ
عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ
ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ کے ذکر سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے اور نہ ہی
خریدو فروخت(النور:37)
وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ
اور اللہ کا ذکر تو سب سے بڑا ہے (العنکبوت:152)
وَاذْکُرِاسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ
تَبْتِیْلَا
اوراپنے رب کے نام کا ذکر کرتے رہو اور ہر طرف سے بے تعلق ہو کر(المزمل:8)
سالک کو اپنا خیال درست رکھنا چاہیے اور
ہر وقت اپنے آپ کو خدا کی نوکری میں، خداکی حضوری میں رکھنا چاہیے۔ جب یہ کیفیت نصیب
ہو جائے تو پھر جو بھی حلال اور جائز کام کرے وہ عبادت بن جاتا ہے۔ سالک کو چاہیے کہ
وہ اس بات کے لئے سخت کوشش کرے کہ اس کے دل میں اللہ کی یاد قائم ہو جائے اور غفلت
دور ہوجائے۔کیونکہ
جو دم غافل سو دم کافر