Monday, November 11, 2013

ذکر کی اقسام بلحاظ حقیقت


ذکر کی اقسام بلحاظ حقیقت
               
                                ۱۔ ذکر لسانی                    ۲۔ ذکر قلبی

ذکرِ لسانی میں سالک اپنی زبان سے ذکر شروع کرتا ہے اورپھر ایسا وقت آجاتا ہے کہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے ہر وقت تر رہتی ہے۔ یہ جس کو نصیب ہوجائے وہ نہایت ہی خوش نصیب انسان ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسولِ مقبول نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہر وقت اس زمین پر ہر شخص پر برس رہی ہیں۔ مگر اس سے بڑھ کر کسی دوسرے پر نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اپنی یاد کی توفیق دیدے۔

  ذکرِ لسانی میں جب انسان کی زبان پر اللہ کا ذکر جاری ہوجاتا ہے ۔ (ذکر کا جاری ہوجانا یہ ہے کہ سالک بغیر ارادہ کے بھی ہر وقت اللہ کا ذکر جاری رکھے)۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ، 
1۔ سالک اپنے آپ کوخود ذکر کی طرف متوجہ رکھے، 
2- سالک کی ذکر کرنے سے ایسی حالت ہو جائے کہ ہر وقت اس کی زبان پر ذکر جاری رہے۔ 

ذکرِ قلبیاگلی منزل ہے۔ جس میں زبان سے ذکر ہو یا نہ ہو اس کا دل ہر وقت ذکر میں مشغول رہے۔ یہ حالت سالک کے لیے اصل نصیب کی بات ہے۔ہاتھوں سے کام کرے، پاؤں سے چلے، یہاں تک کہ زبان سے کلام کرے مگر اس کا دل ہر وقت خدا کی یاد میں دھڑکتا رہے۔ یہ کیفیت صرف بہت اعلیٰ نصیب والوں کو ہی ملتی ہے۔



یہ بات نہایت ہی قابلِ فہم اور اہمیت کی حامل ہے کہ سالک کو اس مقام جو کہ نہایت ہی بلند ترین مقام ہے تک پہنچنے کے لئے پہلے تمام مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یعنی ذکر جہر اور ذکر خفی دونوں میں ذکر لسانی سے زبان کو تر کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ذکرِ قلبی کا مقام آتا ہے جو کہ ارفع و اعلیٰ چیز ہے ۔ 

اللہ تعالیٰ تمام سالکین کے نصیب میں کرے (آمین)

No comments:

Post a Comment