ضرورتِ شیخ
مادی علوم میں سے کوئی علم، دستکاری پیشوں میں سے کوئی پیشہ، فنون لطیفہ میں سے کوئی فن یہاں تک کہ کھیلوں میں سے کوئی کھیل بھی ایسا نہیں ہے جس کو سیکھنے کے لئے استاد کی ضرورت نہ پڑتی ہو۔ تو روحانیت تو ایک ایسا علم ہے جو کہ تمام علوم سے زیادہ لطیف اور تزکیہ نفس کا فن تمام فنون سے دشوار ترین ہے۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ اس علم کو حاصل کرنے کے لئے کسی راہبر، کسی استاد یا علم کو جاننے والے اور سمجھنے والے کی ضرورت نہ ہو۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قرآنِ مجید کی موجودگی میں کسی مرشد ، شیخ یا راہبر کی ضرورت نہیں۔ یہاں دو باتیں غور طلب ہیں اوّل قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے علم کی ضرورت ہے کم سے کم ترضرورت عربی زبان کے رموزواوقاف اور صرف و نحو، دوئم قرآنِ مجید کی اصل روح کو سمجھنے کے لئے ایک ایسے روشن اور صاف سینے کی ضرورت ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے انوار سے اور نسبتِ رسولی صل اللہ علیہ وسلم سے روشن اور منور ہو۔ ورنہ مطالب کچھ کے کچھ نکال کر اپنا اور دیگر لوگوں کا بیڑا غرق کردیں۔ نبیٔ پاک صل اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی صحابہؓ آپ صل اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید کی تشریح اور تفسیر سیکھتے تھے۔حلانکہ ان میں سے اکثر عرب تھے۔اور عربی زبان کے خوب ماہر تھے۔
اسی طرح ڈاکٹری یا انجینیئرنگ وغیرہ کے علوم کی کتابوں کی لائیبریریاں بھری ہوئی ہیں مگر کوئی ان کاعلم خود سے پڑھ کر ڈاکٹر یا انجینیئر نہیں بن سکتا۔ اگر کوئی محض کتابوں کو پڑھ کے ڈاکٹری شروع کردے تو اس کو ڈاکٹر نہیں کہیں کے بلکہ نیم حکیم کہیں گے جوصحیح مشورہ تو کیا دے گا الٹا نقصان کا باعث ہوگا۔اسی طرح کئی کتابیں کیمیا کی مل جاتی ہیں جن کو پڑھ کر کوئی کیمیا گر نہیں بن سکتا اس کے لئے اگر اصل کیمیا گر مل جائے تونہ صرف کیمیا بنادے بلکہ سیکھنے والے کو بھی کیمیا گر کردے۔
قرآن ِ کریم میں اللہ تبارک تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے
وَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ج
اور اسی کی راہ چلو جو میری طرف رجوع لایا
۔’’سَبِیْل‘‘ سے مراد معمولاتِ ’’مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ‘‘ ہے۔ اور ان سے مراد عبادات ہیں۔ ’’اتَّبِعْ‘‘امر کا صیغہ ہے۔ ’’مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ‘‘ سے مرادمشائیخ ہیں جو قرب الہٰی حاصل کئے ہوے ہوں۔ اس بنا پر شیخ سے بیعت کرنا ضروری ہے۔ اُس شیخ سے جو شریعت کے احکام، موضوعِ طریقت اور اقسامِ بیعت سے واقف ہو۔
مگر وہ شیخ جو ان امورسے نا واقف ہوں ان سے بیعت کرنا حرام ہے۔ قائدہ کلیہ ہے کہ شرط ہمیشہ مشروط سے مقدم ہوتی ہے مثلاً نماز پڑھنے کے لئے وضو شرط ہے اگر وضو ہی نہ ہو تو نماز کیسی۔ اگر عجمی شخص قرآن کا علم حاصل کرنا چاہے تواسے چاہیے کہ کسی صحیح العقیدہ نسبتِ رسولی صل اللہ علیہ وسلم سے روشن سینے والے مترجم کا لکھا ہوا ترجمہ پڑھے ورنہ اصل مقصد سے دورہوجائے گا بلکہ منزل پر کبھی نہ پہنچے گا۔
لہٰذاروحانیت کے علوم کو سیکھنے، تزکیہ نفس کے فن میں مہارت اور خُدا کا قرب حاصل کرنے کے لیے کسی خُدا رسیدہ نسبتِ رسولی صل اللہ علیہ وسلم سے روشن سینے والے صاحبِ اجازت شیخ سے بیعت کرنا ضروری بلکہ کامیابی کی شرط ہے۔