Friday, November 22, 2013

حقیقی شیخ (رہبر) کی پہچان

حقیقی شیخ (رہبر) کی پہچان

سب سے ضروری امر یہ ہے کہ ایک سادہ اور ناتجربہ کار انسان سینکڑوں غلط اور جھوٹے پیروں میں سے حقیقی رہبرکو کس طرح پہچان سکتا ہے۔ اوّل تو یہ کہ اگر واقعی طالبِ حق ہے تو اس کی صداقتِ خواہش اور تمّنا خود ہی کافی ہے بلکل اسی طرح جس طرح کوئی شخص پیاسا ہو تو اس کے لئے پانی کی شرائط کی بحث کرنا غیر ضروری ہے۔

پھر بھی قرآن مجید نے اس مشکل کو آسان کردیا ہے کہ نائبِ رسول اور ولی اللہ وہ شخص ہے جو ان تین امور پر کار بند ہو۔

۱۔
ومَایَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی
(اور وہ کوئی بات اپنی خواہش پر نہیں کرتا (النجم۳

۲۔
عَزِیْزُعَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصُ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رُءُ وْفُ رَّحِیْمُ
اس پرتمھارا مشقت میں پڑنا گراں گزرتاہے تمھاری بھلائی کا نہایت چاہنے والا 
(اور ایمان والوں پر نہایت شفیق مہربان ہے(التوبہ۱۲۸

۳۔
تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللہِ
(اپنے اخلاق کو اخلاقِ الٰہی سے موصوف کرو (الحدیث

حضور سرورِ کائینات صل اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا ولی وہ ہے جس کے پاس بیٹھنے سے خدا یاد آئے۔ یعنی حُبِ دنیا کی جگہ دل میں خدا کی محبت داخل ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ خدا سے ملانے والا رہبر مل جائے اور اگر یہ مل جائے تو دنیاومافیہا کی دولتیں اس کے آگے ہیچ ہیں۔ اس رہبر کا ملنا عین کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا ہے

مَنْ یَّھْدِاللہُ فَھُوَالْمُھْتَدِج وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَلَہُ وَلِیًّا مُّرْشِدًا
جسے اللہ ہداہت دے وہی ہدایت یافتہ ہے ، اور جسے وہ گمراہ ٹھہرادے اس کے لئے کوئی ولی مرشد نہیں