Tuesday, November 19, 2013

بیعت کی برکت

بیعت کی برکت

اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی کسی دنیاوی غرض کے خاطرکسی اللہ کے ولی کے پاس جاتا ہے۔بلکہ اگر اس تعداد کو 99٪ کہہ دیا جاے تو کوئ مبالغہ نہ ہوگا۔کوئ اپنےقرض سے، مرض سے، پریشانی سے، تکالیف سے نجات کے لیے، کوئ اولاد کو حاصل کرنے کے لیے، وغیرہ وغیرہ کسی اللہ کے ولی کے پاس دعاکروانے جاتے ہیں۔

اللہ کے والی کی دعاسے اس کا دنیا کا مسئلہ تو حل ہو ہی جاتا ہے مگر اللہ والے کی توجہ حقیقت میں کسی اور طرف ہوتی ہے۔ اور وہ اپنی نظر کے فیضان سے اس دنیا دار کو آہستہ آہستہ راہِ سلوک کی طرف لگا دیتا ہے کہ جسکا مقصد صرف اور صرف اللہ کا قرب اور نسبت رسولی ہوتا ہے۔ اور وہ پھر آگے چل کر ولی، غوث ،قطب اور ابدال بن جاتے ہیں۔اور بیشمار ایسی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔

صرف ایک فیصد لوگ بلکہ اس سے بھی کچھ کم لوگ اپنی لگن اور اپنی طلب سے کسی اللہ والے کو تلاش کرتے ہیں جو راہ سلوک کی طرف گامزن کرسکے۔ایسے لوگوں کے لیے بیعت فرض ہے کہ جس کی برکت سے وہ بہت جلد اپنی منزل مقصود کی طرف رواں ہوجاتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment