Monday, November 18, 2013

قرآنِ وسنت کی روشنی میں بیعت

قرآنِ وسنت کی روشنی میں بیعت 

قرآن شریف میں بیعت ہونا اور بیعت کرنا ثابت ہے

اِنَّ اَلَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَایُبَایِعُوْنَ اللہ ط یَدُاللہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِم ج فَمَنْ نَّکَثَ فَاِنَّمَایَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہ ج وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰھَدَ عَلَیْہُ اللہ فَسَیُوْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا سورۃالفتح آیت10

بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ،ان کے ہاتھوں پر(آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اللہ کا ہاتھ ہے پھر جس نے بیعت کو توڑا تواس کے توڑنے کا  وبال اس کی اپنی جان پر ہوگا اور جس نے بات کو پورا کیا جس پر اس نے اللہ سے عہد کیا تھا، تو عنقریب اسے بہت بڑا اجر عطا کیا جائے گا۔

سورۃ الفتح آیت نمبر۱۰ چونکہ اپنے مضمون کے اعتبار سے اور بیعت کے متعلق ہے۔ اور اسکا شانِ نزول بھی سب کو معلوم ہے کہ جب آپ صل اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کومشرکین مکہ سے معاملات طے کرنے کی غرض سے بھیجا تو یہ افواہ اُڑ گئی کہ حضرت عثمانؓ کو شہید کردیا گیا ہے۔ اس موقع پر نبیٔ پاک صل اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہؓ کو بلوایا اور ان سے بیعت لی کہ ہم عثمانؓ کا بدلہ لیں گے۔

یہاں جو چیز سمجھنے والی ہے وہ یہ کہ کسی اور کو معلوم ہوتا یا نہ ہوتا اللہ ربّ العزت کو تو معلوم تھا کہ حضرت عثمانؓ زندہ ہیں ان کو شھید نہیں کیا گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ کو آپ صل اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کابیعت کرنے کا عمل اتنا پسند آیا کہ اللہ نے خود فرمایا کہ جو آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ یہاں ایک نقطہ جو بہت اہم ہے وہ یہ کہ اچھے مقصد کے لئے بیعت کرنا اور ہونا مالک کو اتنا پسند آیا کہ مالک نے اُسے قرآن کی آیت بنا دیا۔

لَقَدْ رَضِیَ اللہ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْیُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الْشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ فَاَنْزَلَ الْسَّکِیْنَۃَ عَلَیْھِمْ وَاَثَابَھُمْ فَتْحًاقَرِیْبًا سورۃالفتح آیت نمبر۱۸

بیشک اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کررہے تھے، سو جو (جذبۂ صِدق ووفا) ان کے دلوں میں تھا اللہ نے معلوم کرلیا تو اللہ نے ان(کے دلوں) پر خاص تسکین نازل فرمائی اور انہیں ایک بہت ہی قریب فتح کا انعام عطا کیا

یٰٓاَیُّھَاالنَّبِیُّ اِذَاجَآئَکَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّایُشْرِکْنَ بِاللہِ شَیْئًاوَّلَایَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَایَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَایَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہ‘ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَ لَایَعْصِیْنَکَ فِی مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْھُنَّ وَاسْتَغْفِرْلَھُنَّ اللہ طاِنَّ اللہَ غَفُوْرُ رَّحِیْمُ ٗ سورۃممتحنہ آیت نمبر۱۲

اے نبی(صل اللہ علیہ وسلم) جب تمھارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ خدا کے ساتھ نہ تو شریک کریں گی نہ چوری کریںگی، نہ بدکاری کریں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان لائیں گی اور نہ نیک کاموں میں تمھاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے خداسے بخشش مانگو بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے

سورۃالممتحنہ کی آیت نمبر۱۰ میں تو اللہ تعالیٰ نے صاف اور سیدھے الفاظ میں نبیٔ اکرم صل اللہ علیہ وسلم کو عورتوں کو بیعت کرنے کا حکم دیااور ان کے لئے بخشش بھی مانگنے کا کہاہے۔ جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی دعا کو ردّ نہیں کرتا۔ اسی سنت کو پورا کرنے کے لئے خدا کے نیک بندے اولیاء اللہ لوگوں کو بیعت کرتے ہیں اور ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں سے مخلوق پر اپنا فضل کرتا ہے۔

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ اکرام ؓ کو کئی موقعوں پر بیعت کیامثلاً جہاد، اسلام اور احکامات پر۔اِسکے متعلق بہت ساری احادیث صحیحہ موجود ہیں

حضرت ابنِ عوف اشجیٔ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبیٔ پاک صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے سات ،آٹھ یا نو لوگ تھے۔آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی بیعت نہیں کروگے؟ہم نے ہاتھ آگے بڑھائے اور عرض کی یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم ہم کس بات پر آپ سے بیعت کریں۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس بات پر کہ ’’ اللہ کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں گے، پانچ وقت کی نماز ادا کریں گے اور جو سنا اس پر عمل کریں گے‘‘

یہ حدیث مبارکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بیعت جورسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے لی ،نہ تو ایمان کے لئے تھی اور نہ کسی جہادکے لئے تھی بلکہ یہ تو صرف اعمالِ صالحہ کے لئے تھی۔

No comments:

Post a Comment