Wednesday, November 13, 2013

راہ سلوک


سلوک

سلوک کا لفظ ’’   سَلَکَ  ‘ ‘ ،  ’’   مُنْسَلَکْ  ‘‘ سے ہے۔ جس کا مدعا اتصال اور پیوستگی ہے۔

انسان بدن اور روح کا مرکب ہے اپنے بدن کی اصلاح کے لئے، اس کی دیکھ بھال کے لئے دن رات کوشش کرتاہے۔ طرح طرح کے علاج ڈھونڈتا ہے۔ اسے درست حالت میں رکھنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہتا ہے۔ 

مگر روح کی اصلاح سے اکثرغافل ہو جاتاہے۔ روحانی اصلاح صرف سلوک کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ 

رسولِ کریم صل اللہ علیہ وسلم نے ساری انسانیت کو اس بات کی تعلیم دی کہ کس طرح انسان ہر وقت اپنے آپ کوخُدا کی بارگاہ میں پیش کرسکتا ہے اورہر لمحہ بلکہ ہر سانس میں خدا سے تعلق کو مضبوط بنا سکتا ہے اور اپنی ساری زندگی کو عبادت کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے اور بہترین مشعل راہ ہے۔آپ صل اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی اصل میں راہِ سلوک ہے۔ 

سلوک وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان روحانی اصلاح کی منازل حاصل کرسکتا ہے۔ راہِ سلوک پر چلنے والے کو "سالک" کہتے ہیں۔


جس کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنے مرشد و رہبرسے اپنے تعلق کو مضبوط کرے کیونکہ حقیقی مرشد ورہبر نائبِ رسول ہوتاہے۔سالک کوراہِ سلوک پر چلنے سے وہ مقامات نصیب ہوتے ہیں جو اسکی ساری زندگی کا سرمایہ ہوتے ہیں۔  اس لئے اشد ضرورت اس امر کی ہے کہ راہ سلوک پر چلنے کے بعد اپنے آپ کو فروعاتی باتوں میں نہیں الجھانا چاہیے اور اپنی زندگی کو خسارہ میں نہیں ڈالنا چاہیے۔

راہِ سلوک پر چلنے والوں کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کسی اونچے پہاڑ پر کوئی پھول کھلا ہو اور بہت ساری چیونٹیاں اس تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ کچھ تو پھول تک پہنچ جاتی ہیں اور کچھ راستے میں ہی دم توڑ دیتی ہیں۔ ہر چیونٹی کی کامیابی کا معیار اس پھول سے قریب یادورہونے پر ہوتا ہے۔اسی طرح راہ سلوک پر چلنے والوں کے لئے منازل ہوتی ہیں جو کہ وہ اپنی کوشش سے اور مرشد کی راہنمائی میں طے کرتا چلا جاتا ہے۔


راہِ سلوک پر چلنے کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے۔



No comments:

Post a Comment