بیعت
بیعت عربی زبان کا لفظ ہے جو کہ ’’ بیع ـ‘‘سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے تجارت۔
تجارت کا عام مہفوم یہ ہے کچھ خریدنا یا بیچنا یعنی خریدوفروخت۔ مزید سمجھنے کے لئے ہمارے ملک میں یہ عام رواج ہے کہ جب کوئی زمین کا سودا طے کرتا ہے تو بیچنے والا اور خریدنے والا ایک تحریر لکھوا لیتے ہیں جس کو ’’بیعنامہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بیعنامہ دونوں یعنی خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور دونوں اس تحریر کا بہت احترام کرتے ہیں۔ یہ مثال تو سمجھانے کے لئے تھی ہمارا موضوع یہ خریدو فروخت یا تجارت سمجھانا یا سمجھنا نہیں ہے۔
یہاں ایک بات جو سمجھنے کی ہے کہ بیعت ہونا کیا کاروائی ہے۔ اس کے لئے سادہ سی مثالیں بیان کی جاتی ہیں۔
ایک شخص ہے وہ کپڑے کا کاروبار کرنا چاہتا ہے ۔ اس کے لئے دو راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ ایک دوکان حاصل کرے،کپڑا تھوک میں خریدے اور دوکان کھول کر کام شروع کردے۔ اس میں جو مسائل درپیش ہونگے وہ ان کو کس طرح حل کریگا، ادھارلین دین ، ٹیکس ، کپڑے کا آوٹ آف سیزن ہوجانا وغیرہ وغیرہ۔ اس طریقے میں نقصان ہو جانے کاخطرہ بہت زیادہ ہے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ کچھ دن کسی اچھی دوکان جہاں لین دین بھی اچھا ہو، خریداری بھی زیادہ ہوں۔ وہاں تجربہ حاصل کرے اور کچھ علم سیکھے تو اسطرح وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ کن حالات کو کس طرح سنبھالا جاتا ہے۔
یہاں ایک اعتراض ہو سکتا ہے کہ وہ اکائونٹس ، بزنس ایڈمنسٹریشن اور پبلک ایڈمنسٹریشن کا علم حاصل کرے۔ پہلی بات یہ کہ یہ تمام علم ہر کوئی حاصل نہیں کر سکتا۔اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مثلاً طالبِ علمی کے دنوںمیںمالی حالات، علم کی کمی، پڑھائی کی عدم توجھی وغیرہ وغیرہ ۔دوسری بات یہ کہ اگر ان تمام علوم کا حامل ہی کامیاب ہو سکتا ہے تو شاید اتنے بازار اور منڈیاں نظر ہی نہ آتیں۔تیسری بات یہ کہ ان تمام علوم کے حاصل کرلینے کہ باوجود سب سے اہم چیز تجربہ ہے جو کہ کسی ماہر استاد ہی کی نگرانی میں ہو سکتا ہے۔
دل میں خیال پیدا ہوا کہ ڈاکٹر بن کر دُکھی مخلوق اور بیماروں کی خدمت کی جائے۔ اس کے لیے ایک ہی جائز اور صحیح راستہ ہے کہ میڈیکل یا طب کا علم حاصل کرنے کے لئے کسی کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ لیا جائے اس کے بعدتجربہ کار اور ماہر اساتذہ کی زیرِ نگرانی کچھ عرصہ کام کیا جائے۔ پھر اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر مخلوق کی خدمت کی جائے۔ لیکن اگر کوئی بغیر علم و تجربہ کے لوگوں کو دوائیاں دینا شروع کردے ٹیکے لگانے شروع کردے اور لوگوں کو غلط قسم کے مشورے دینا شروع کردے تو یہ قانوناً اور اخلاقاً جرم ہے اور اس کے لئے سزاکا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ایک شخص اگر مسجد میں امامت کروانا چاہتا ہے تو اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ماہر استاد سے قرآن شریف کی قراء ت سیکھے، تجویدپڑھے، اُسے حفظ کرے ، نماز یاد کرے اور نماز کے متعلق فقہی مسائل کا علم حاصل کرے تو وہ اس قابل ہو گا کہ امامت کرواسکے۔ لیکن اگر وہ اِن تمام جملہ علوم سے ناواقف ہو تو کوئی اسکے پیچھے نماز پڑھنے کو تیارنہ ہوگااور نہ ہی وہ نماز پڑھا سکے گا۔
پس اسی طرح اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ وہ اللہ کا خاض بندہ بننا چاہتا ہے، اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتاہے۔ اللہ کا دوست بننا چاہتا ہے۔ ایسا بندہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فرمایا ہے
الَآ اِنَّ اَوْلِیَآ ئَ اللّٰہِ لَاْ خَوْفُٗ عَلَیْھِمْ وَلَاْ ھُم یَحْزَنُوْنَ
خبردار! بے شک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ وغمگین ہوں گے
الَّذ ِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ
(وہ) ایسے لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (ہمیشہ) تقویٰ شعار رہے(سورۃ یونس)
اس کے دل میں اللہ کی مخلوق کے لئے درد ہے ۔ وہ اللہ کی رضاحاصل کرنے کے لئے مخلوقِ خداکی خدمت کرنا چاہتا ہے(خدمت کی بہت سی اقسام ہیں جو کہ یہاں ہمارا موضوع نہیں ہے)۔ نبیٔ پاک صل اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق سے مخمور ہونا چاہتا ہے۔ اللہ کے دین کی خدمت کرنا چاہتا ہے تواُسے اللہ کے کسی خاص بندے جس کا تذکرہ اوپر آیت میں گزرا ہے،کی خدمت میں ادب سے حاضر ہونا چاہیے اور بیعت کے لئے درخواست کرنی چاہیے۔
پیغمبر تو اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوتے ہیں لیکن ولایت کے لئے جو کوشش کرے، ریاضتیں کرے،نفس کو روکے برایئوں سے اور بے جا خواہشوں سے جن کو پورا کرنے کے لئے جائز اور ناجائز ہر طرح کے طریقے استعمال کرنے پڑیں تو اس کے لئے اللہ کا دروازہ کھلا ہے۔
ان مثالوں سے ایک بات جو کہ نہایت ہی آسانی کے ساتھ سمجھ میں آجاتی ہے وہ یہ کہ ہر قِسم کے فن کو سیکھنے کے لئے، ہر قِسم کے علم کو حاصل کرنے کے لئے۔ اِس دنیا میں بہت ساری قابلِ قدراور معیاری کُتب موجود ہونے کے باوجوداستاد کی ضرورت باقی رہتی ہے۔اور یہ ضرورت ِ استادانسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ استاد ہی ایک ایسی شخصیت ہوتی ہے جو اپنی مہارت ، اپنے تجربات اور اپنے علم سے سیکھنے والے کو چند لمحوں میں وہ باتیں بتا سکتا ہے کہ جن کو معلوم کرنے کے لئے کئی سال درکار ہوں یا نقصانات بھی برداشت کرنے پڑیں اور پھر بات سمجھ میں آئے۔
لہٰذابیعت ہونایہ کاروائی ہے کہ جس کے تحت خریدنے والا اور بیچنے والا، استاد و شاگرد، پیر اور مرید ایک زبانی یا تحریر شدہ معاہدے پر عمل کرنے یا اس پر کاربند رہنے کا عہد کرتے ہیں
بیعت کا رواج نبیٔ پاک صل اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے خلافتِ راشدہ اور اسکے کچھ عرصہ بعد تک کافی عام رہاہے لیکن جب اسلامی ریاست دنیا کے وسیع و عریض رقبہ پر پھیل گئی تو سلاطین و امراء نے اسکو متروک کردیا۔ لیکن اھلُ اللہ نے ، اولیاء اللہ نے اس کو جاری رکھا جو آج تک جاری ہے اور قیامت تک انشاء اللہ جاری رہے گا۔
ہمارا موضوع تو اُس ’’بیعت‘‘ کے بارے میں سمجھنااور سمجھانا ہے جوکہ ایک طالبِ حق کسی اللہ کے ولی کے ہاتھ پر کرتاہے۔ ایک مرید کسی مُرشد کی بیعت کرتا ہے۔ ایک خدا کا قرب چاہنے والا خدا کے برگزیدہ بندے کے ہاتھ پر کرتا ہے۔
درحقیقت جب کوئی بندئہ خدا کسی اللہ کے ولی کے پاس جاتا ہے اگر اُس کے دل میں خدا کا قرب حاصل کرنے کا شوق ہو، اللہ سے ملاقات کا شوق ہو، طالبِ حق ہو، آخرت کی زندگی پر نظر رکھتا ہو کہ اس زندگی کے بعد بھی ایک زندگی آنے والی ہے جوکہ دارالعمل نہیں بلکہ دارالجزا ہے ، اُس روز اللہ کے سامنے اور نبیٔ پاک صل اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے تو وہ اس اللہ کے ولی سے ’’بیعت‘‘ کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ (مگر یہ کیفیات ہر کسی میں نہیں پائی جاتیں) ۔
بعض اولیاء اللہ لوگوں کو بُلا بُلا کر بھی بیعت کرتے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment